Syed mohsin raza naqvi | Mohsin naqvi best poetry

0
49

in this article we will provide syed mohsin raza naqvi & mohsin naqvi poetry in urdu sms text with images you can easily copy and paste and share with friends and family 

syed mohsin raza naqvi about in urdu

سید محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر، اسکالر، اور گیت نگار تھے۔ وہ ڈیرہ غازی خان، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ نقوی کو ان کی رومانوی اور انقلابی شاعری کے لیے بڑے پیمانے پر جانا جاتا ہے جو اکثر محبت، نقصان اور سماجی انصاف کے موضوعات پر روشنی ڈالتی ہے۔

نقوی کی شاعری جذبات کی گہرائی، پیچیدہ استعاروں اور پُرجوش منظر کشی کے لیے مشہور ہے۔ وہ اردو زبان پر اپنی گرفت اور سادہ لیکن گہرے الفاظ میں پیچیدہ خیالات کا اظہار کرنے کی صلاحیت کے لیے بھی مشہور تھے۔

سید محسن نقوی اپنی ادبی خدمات کے علاوہ مختلف سماجی اور سیاسی کاموں میں بھی شامل رہے۔ وہ انسانی حقوق اور سماجی مساوات کے لیے آواز اٹھاتے تھے جس کا اظہار اکثر ان کی شاعری میں ملتا ہے۔

نقوی کے کاموں کو پاکستان میں اور دنیا بھر میں اردو بولنے والی کمیونٹیز میں منایا جاتا ہے اور ان کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ان کے شعری مجموعے جیسے “برگِ سحر،” “خیمہ جان” اور “بندِ کبا” اردو شاعری کے شائقین میں مقبول ہیں۔

Mohsin naqvi best poetry

تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے

 Mohsin naqvi best poetry

تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے
جو پتے زرد ہو جائیں وہ شاخوں پر نہیں رہتے

تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو
وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے

جھکا دے گا تیری گردن کو یہ خیرات کا پتھر
جہاں میں مانگنے والوں کے اونچے سر نہیں رہتے

یقیناً یہ رعایا بادشاہ کو قتل کر دے گی
مسلسل جبر سے محسن دلوں میں ڈر نہیں رہتے

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

Syed mohsin raza naqvi

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر

کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر

اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے
وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر

ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر

اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر

اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔ
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر

mohsin naqvi poetry in urdu

فنکار ہے تو ہاتھہ پہ سورج سجا کے لا

Mohsin naqvi best poetry

فنکار ہے تو ہاتھہ پہ سورج سجا کے لا
بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا

دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر تیرا
ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا

اب اختتام کو ہے سخی حرف التماس
کچھہ ہے تو اب وہ سامنے دست دعا کے لا

پیماں وفا کے باندھ مگر سوچ سوچ کر
اس ابتدا میں یوں نہ سخن انتہا کے لا

آرائش جراحت یاراں کی بزم میں
جو زخم دل میں ہیں سبھی تن پر سجا کے لا

تھوڑی سی اور موج میں آ اے ہوائے گل
تھوڑی سی اس کے جسم کی چرا کے لا

گر سوچنا ہیں اہل مشیت کے حوصلے
میداں سے گھر میں ایک تو میت اٹھا کے لا

محسن اب اس کا نام ہے سب کی زبان پر
کس نے کہا کہ اس کو غزل میں سجا لا

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں

syed mohsin raza naqvi ki shayari 
i

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
صحرا میرا چہرہ ہے تو سمندر تیری آنکھیں

پھر کون بھلا دادِ تبسم انھیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں

بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اُتر کر تیری آنکھیں

اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تیری آنکھیں

ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں

مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا

Mohsin naqvi best poetry

مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
جب بھی اس شہر کی تاریخِ وفا لکھے گی

میرا ماتم اِسی چپ چاپ فضاء میں ہوگا
میرا نوحہ اِنہی گلیوں کی ہوا لکھے گی

syed mohsin raza naqvi ki shayari 

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے

Mohsin naqvi best poetry

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے
ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ھے

یہ ختم وصال کا لمحہ ہے را ئگاں نہ سمجھ
کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے

کچھ اور دیر نہ جھاڑنا اداسیوں کے شجر
کسے خبر کون تیرے سائے میں بیٹھا ہے

یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو
وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے

میں کس طرح تجھے دیکھوں نظر جھجکتی ہے
یہ بدن ہے کہ آئینو ں کا دریا ہے

کچھ اس قدر بھی تو آساں نہیں ہے عشق تیرا
یہ زہر دل میں اتر کے ہی راس آتا ہے

میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں
کبھی کبھی تو مجھے تو نے ٹھیک سمجھا ہے

مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب
کہ میں نے شاخ سے گل کوبچھڑتے دیکھا ہے

میں مسکرا بھی پڑا ہوں تو کیوں خفا ہیں یہ لوگ
کہ پھول ٹوٹی ہو ئی قبر پر بھی کھلتا ہے

اسے گنوا کے میں زندہ ہوں اس طرح محسن
کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ہے

syed mohsin raza naqvi ki ghazal 

خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن

Mohsin naqvi best poetry

خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن
میں یوں بھی پھول تھا آخر مجھے بکھرنا تھا

وہ کون لوگ تھے ، ان کا پتہ تو کرنا تھا
مرے لہو میں نہا کر جنہیں نکھرنا تھا

یہ کیا کہ لوٹ بھی آئے سراب دیکھ کے لوگ
وہ تشنگی تھی کہ پاتال تک اترنا تھا

گلی کا شور ڈرائے گا دیر تک مجھ کو
میں سوچتا ہوں دریچوں کو وا نہ کرنا تھا

یہ تم نے انگلیاں کیسے فگار کر لی ہیں ؟
مجھے تو خیر لکیروں میں رنگ بھرنا تھا

وہ ہونٹ تھے کہ شفق میں نہائی کرنیں تھیں ؟
وہ آنکھ تھی کہ خنک پانیوں کا جھرنا تھا ؟

گلوں کی بات کبھی راز رہ نہ سکتی تھی
کہ نکہتوں کو تو ہر راہ سے گزرنا تھا

خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن
میں یوں بھی پھول تھا آخر مجھے بکھرنا تھا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here