parveen shakir best poetry

0
30

in this article we will provide parveen shakir best poetry & parveen shakir poetry in urdu sms text and imag you can easily copy and past and share with friends and family 

about of parveen shakir in urdu

پروین شاکر پاکستان کی معروف شاعرہ، استاد اور سرکاری ملازم تھیں۔ 24 نومبر 1952 کو کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئیں، انہوں نے اپنی شاعری کے منفرد انداز کی وجہ سے بے حد مقبولیت حاصل کی، جس میں اکثر محبت، حقوق نسواں اور سماجی مسائل کے موضوعات کو تلاش کیا جاتا تھا۔

شاکر نے چھوٹی عمر میں ہی شاعری شروع کی اور 1976 میں اپنی شاعری کا پہلا مجموعہ “خوشبو” شائع کیا، جسے تنقیدی پذیرائی ملی۔ اس کے بعد کے شعری مجموعوں، جن میں “صد برگ” (مارش میریگولڈ)، “خود کلامی” (خود سے باتیں کرنا) اور “انکار” (انکار) نے اردو ادب میں ایک ممتاز آواز کے طور پر ان کی ساکھ کو مزید مستحکم کیا۔

parveen shakir best poetry

کبھی رُک گئے کبھی چل دئیے

parveen shakir best poetry
parveen shakir best poetry

کبھی رُک گئے کبھی چل دئیے
کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے

یونہی عمر ساری گزار دی
یونہی زندگی کے ستم سہے

کبھی نیند میں کبھی ہوش میں
تُو جہاں ملا تجھے دیکھ کر

نہ نظر ملی نہ زباں ہلی
یونہی سر جھکا کے گزر گئے

کبھی زلف پر کبھی چشم پر
کبھی تیرے حسیں وجود پر

جو پسند تھے میری کتاب میں
وہ شعر سارے بکھر گئے

مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے
مگر آج ہم ہیں جدا جدا

وہ جدا ہوئے تو سنور گئے
ہم جدا ہوئے تو بکھر گئے

کبھی عرش پر کبھی فرش پر
کبھی اُن کے در کبھی در بدر

غمِ عاشقی تیرا شکریہ
ہم کہاں کہاں سے گزر گئے

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے

parveen shakir best poetry
parveen shakir best poetry

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے

بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے

بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے

سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں
زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے

جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی
لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے

parveen shakir poetry in urdu sms text and imag

کمالِ ضبط کو میں خود بھی آزماؤں گی

parveen shakir best poetry
parveen shakir best poetry

کمالِ ضبط کو میں خود بھی آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے روشنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آؤں گی

بدن کے قرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناوں گی

وہ ایک رشتہءِ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب بھی تیری آواز سن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بَھول جاؤں گی

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی

parveen shakir best poetry
parveen shakir best poetry

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

parveen shakir ghazal

سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک

parveen shakir best poetry
parveen shakir best poetry

سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک
سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک

بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن
سلوٹیں ملبوس پر آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہوا

گرمئ رخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوا
نرم زلفوں سے ملائم انگلیوں کی چھیڑ چھاڑ

سرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس
ریشمیں بانہوں میں چوڑی کی کبھی مدھم کھنک

شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات
دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی تھی اک صدا

کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اک دعا
کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ٹھہر جائیں ذرا!

عکسِ خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

parveen shakir best poetry
parveen shakir best poetry

عکسِ خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب میرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سےوہ شخص گزرتابھی نہیں
اب کس امید پہ دروازےسےجھانکے کوئی

کوئی آہٹ،کوئی آواز،کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئےکوئی

تازہ محبّتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے

parveen shakir best poetry
parveen shakir best poetry

تازہ محبّتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے
پھر موسمِ بہار مِرے گُلستاں میں ہے

اِک خواب ہے کہ بارِ دگر دیکھتے ہیں ہم
اِک آشنا سی روشنی سارے مکاں میں ہے

تابِش میں اپنی مہر و مہ و نجم سے سَوا
جگنو سی یہ زمِیں جو کفِ آسماں میں ہے

اِک شاخِ یاسمین تھی کل تک خِزاں اَثر
اور آج سارا باغ اُسی کی اماں میں ہے

خوشبو کو ترک کر کے نہ لائے چمن میں رنگ
اتنی تو سُوجھ بُوجھ مِرے باغباں میں ہے

لشکر کی آنکھ مالِ غنیمت پہ ہے لگی
سالارِ فوج اور کسی اِمتحاں میں ہے

ہر جاں نثار یاد دہانی میں منہمک
نیکی کا ہر حساب دِل دوستاں میں ہے

حیرت سے دیکھتا ہے سمندر مِری طرف
کشتی میں کوئی بات ہے، یا بادباں میں ہے

اُس کا بھی دھیا ن جشن کی شب اے سپاہِ دوست
باقی ابھی جو تِیر، عُدو کی کماںمیں ہے

بیٹھے رہیں گے، شام تلک تیرے شِیشہ گر
یہ جانتے ہُوئے، کہ خسارہ دُکاں میں ہے

مسند کے اِتنے پاس نہ جائیں کہ پھر کَھلے
وہ بے تعلّقی جو مِزاجِ شہاں میں ہے

ورنہ یہ تیز دھوپ تو چبُھتی ہَمَیں بھی ہے
ہم چُپ کھڑے ہُوئے ہیں کہ تُو سائباں میں ہے

کبھی عرش پر کبھی فرش پر

parveen shakir best poetry
parveen shakir best poetry

کبھی عرش پر کبھی فرش پر
کبھی ان کے در کبھی دَر بدر

غمِ عاشقی تیرا شکریہ
ہم کہاں کہاں سے گزر گئے

یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے

parveen shakir best poetry
parveen shakir best poetry

یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے

خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے

بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے

اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں
یہ اجالا تو کسی دیدۂ نمناک سے ہے

ہاتھ تو کاٹ دیے کوزہ گروں کے ہم نے
معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here