Motivational faiz ahmad faiz quotes

0
30

Today this article is motivational faiz ahmad faiz quotes,and faiz ahmad faiz shayari urdu sms text with poetry img and you can easily copy and past and esily share with friends and family,

(faiz ahmad faiz about in urdu)

فیض احمد فیض (1911–1984) پاکستان کے معروف شاعر، ادیب، اور دانشور تھے جنہیں 20ویں صدی کے سب سے مشہور اردو شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں گہری انسان دوستی، انقلابی جوش اور گہرا گیت ہے۔ فیض کے کام اکثر محبت، سیاست، جبر اور سماجی انصاف کے موضوعات کو تلاش کرتے ہیں۔

برطانوی ہندوستان (اب پاکستان) میں پیدا ہوئے، فیض کم عمری سے ہی بائیں بازو کی سیاست اور سرگرمی میں شامل ہو گئے۔ وہ سوشلسٹ نظریات کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے تھے اور مظلوموں اور پسماندہ لوگوں کے حقوق کے لیے ایک واضح وکیل تھے۔ ان کی شاعری ان کے سیاسی عقائد کی عکاسی کرتی ہے، جو اکثر محنت کش طبقے اور پسماندہ طبقے کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

فیض کی ادبی پیداوار میں شاعری کے کئی مجموعے شامل ہیں، جیسے “نقش فریادی” (1943)، “دست صبا” (1952)، اور “زندان نامہ” (1956)۔ ان کی شاعری کی خصوصیات اس کی خوبصورت زبان، بھرپور علامت نگاری اور اشتعال انگیز منظر کشی ہے۔ فیض کی آیات کو موسیقی میں ترتیب دیا گیا ہے اور مختلف فنکاروں نے گایا ہے، جو پورے جنوبی ایشیا میں مقبول ہو رہا ہے۔

اپنی پوری زندگی میں، فیض کو اپنے سیاسی نظریات کے لیے سنسرشپ اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں قید اور جلاوطنی کے ادوار کا سامنا کرنا پڑا۔ ان چیلنجوں کے باوجود انہوں نے مسلسل لکھنا جاری رکھا اور اپنے اصولوں سے سرشار رہے۔

فیض کی میراث ان کی شاعری سے آگے بڑھی ہے۔ وہ ایک ممتاز صحافی، ایڈیٹر اور ادبی نقاد بھی تھے۔ انہوں نے پاکستان کے ثقافتی اور فکری منظر نامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور اردو ادب پر ​​دیرپا اثرات چھوڑے۔

اپنی ادبی خدمات اور فعالیت کے اعتراف میں، فیض کو اپنی زندگی کے دوران اور بعد از مرگ دونوں طرح کے متعدد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی شاعری دنیا بھر کے قارئین کو متاثر کرتی رہتی ہے اور انصاف، آزادی اور انسانی وقار کے اپنے لازوال موضوعات کے لیے متعلقہ رہتی ہے۔

(فیض احمد فیض شاعری)

Motivational faiz ahmad faiz quotes

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے

کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار چلے

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب
گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے

مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

Motivational faiz ahmad faiz quotes

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی
شمع غم جھلملاتی رہی رات بھر

کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر

پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلے
کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر

جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر در
ہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر

ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر

Motivational faiz ahmad faiz quotes

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی
شمع غم جھلملاتی رہی رات بھر

کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر

پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلے
کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر

جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر در
ہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر

ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here